بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات وجوہات اور ان سے بچاؤ کے طریقے
بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات وجوہات, اور ان سے بچاؤ کے طریقے
قارئین! پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں بریسٹ کینسر جیسی خطرناک بیماری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس لئے اب پاکستان میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر بریسٹ کینسر ہی ہے۔ اس لئے آج کا یہ آرٹیکل خاص طور پر خواتین کے لئے ہے۔ زیادہ تر خواتین اس بات سے بےخبر رہتی ہیں کہ بریسٹ کینسر شروع ہونے کی علامات کیا ہوتی ہیں؟ اس لئے اس آرٹیکل میں آپ کو بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات بتائی جائیں گی۔ اورساتھ ساتھ اس خطرناک بیماری کی وجوہات, اور اس بیماری سے بچنے کے چند طریقے بھی بتائے جائیں گے۔ اگر آپ بھی بریسٹ کینسر جیسی خطرناک بیماری کی ابتدائی علامات, وجوہات, اور ان سے بچاؤ کے طریقے جاننا چاہتے ہیں تو اس آرٹیکل کو پورا ضرور پڑھئیے گا۔
قارئین! ایک اندازے کے مطابق بریسٹ کینسر جیسی بیماری کی ہر سال تقریباً نوے ہزار کے قریب بریسٹ کینسر جیسی بیماری کے کیسس سامنے آتے ہیں۔ جن میں سے تقریباً چالیس ہزار کے قریب خواتین اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ ویسے تو عام طور پر بریسٹ کینسر ایک قابلِ علاج مرض ہے۔ لیکن صرف اس صورت میں کہ اس بیماری کا آپ نے ٹائم پر ہی علاج شروع کروا دیا ہو۔ قارئین جیسے ہر بیماری کی علامات ہوتی ہیں بلکل ویسے ہی بریسٹ کینسر جیسی خطرناک بیماری کی بھی کچھ ابتدائی علامات ہوتی ہیں۔ اب وہ کیا علامات ہیں چلیں جانتے ہیں۔
بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات ●
قارئین اگرچھاتی کے اندر گلٹی بن جائے یا چھاتی اندر سے زیادہ سخت ہو جائے تو یہ بریسٹ کینسر کی علامت ہو سکتی ہے۔ چھاتی کے حصے پر یا اُس کے اِرد گرد دانے نکل آنا بھی بریسٹ کینسر کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اگر بازو یا بغل وغیرہ میں گلٹی بن جائے یا چھاتی میں اچانک سے سوجن پیدا ہو جانا بھی بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات میں سمجھا جا سکتا ہے۔ چھاتی کی شکل میں یا اس کے سائز میں اچانک سے تبدیلی آ جانا بھی بریسٹ کینسر کی ہی ایک علامت ہے۔ اس کے علاوہ چھاتی میں ہر روز ایک نئے درد کا محسوس ہونا بھی بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ اس لئے تقریباً مہینے میں ایک بار خواتین کو اپنی تسلی کے لئے چھاتی کا معائنہ ضرور کروا لینا چاہئیے۔
بریسٹ کینسر کی وجوہات ●
قارئین! ویسے تو تقریباً تمام عمر کی خواتین کو بریسٹ کینسر جیسی خطرناک بیماری کے ہونا کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن چالیس سال کی عمر کے بعد خواتین میں اس بیمارے کے مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اس سب کے علاوہ کچھ وجوہات بھی ہوتی ہیں جن سے کچھ خواتین میں باقی تمام خواتین سے زیادہ بریسٹ کینسر کا خطرہ ہوتا ہے۔
جیسے کہ اگر کسی خاتون کی ایک چھاتی میں پہلے کبھی بریسٹ کینسر ہوا ہو تو دوسری چھاتی بھی کبھی آئندہ کبھی بریسٹ کینسر کے شکار ہونے کا بائث بن سکتی ہے۔
ایسی خواتین جن کے خاندان میں پہلے بھی کچھ خواتین اس مرض کا شکار رہ چکی ہوں۔ جیسے کہ نانی, دادی, بہن, اور خالا وغیرہ اگر بریسٹ کینسر کی بیماری کا کبھی شکار ہوئی ہوں تو آنے والی نسلوں میں بھی اس بیماری کے ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ایسی خواتین جن میں بچے کی پیدائش تیس سال کے بعد ہو یا بچے کی پیدائش نہ ہو رہی ہو تو خواتین میں یہ وجہ بھی بریسٹ کینسر کی بیماری کا بائث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چالیس سال کی عمر کے بعد خواتین میں اس بیماری کا خطرہ کافی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
بریسٹ کینسر سے بچاؤ ●
قارئین ! اگر آپ خواتین بریسٹ کینسر جیسی خطرناک بیماری سے خود کو بچانا چاہتی ہیں تو سب سے پہلے اپنی غذا کا بھرپور طریقے سے خیال رکھا کریں۔ بعض خواتین اپنی غذا کا ٹھیک طریقے سے استعمال نہیں کرتیں اور پھر وہ بریسٹ کینسر جیسی بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جو خواتین اپنی غذا کا اچھے سے خیال رکھتی ہیں تو ایسی خواتین کے بریسٹ کینسر جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کے بہت کم چانس ہوتے ہیں۔
اگر آپ بریسٹ کینسر جیسی بیماری سے بچنا چاہتی ہیں تو کوشش کیا کریں کہ کبھی بھی اپنے آپ کو ڈپریشن کا شکار مت ہونے دیں۔ کیونکہ جو خواتین بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں تو وہ اس بیماری میں کبھی نہ کبھی ضرورمبتلا ہو جاتی ہیں۔۔۔ اس لئے بریسٹ کینسر جیسی بیماری سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو کبھی بھی ذہنی دباؤ کا شکار مت ہونے دیں۔
زیادہ تر خواتین اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے بجائے ڈبے کا دودھ بلانا پسند کرتی ہیں۔ لیکن وہ یہ بات نہیں جانتیں کہ اپنے بچوں کو ڈبے کا دود پلانے سے بھی خواتین کو بریسٹ کینسر ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق خواتین کو بریسٹ کینسرسے محفوظ رہنے کے لئے بچے کو اپنا دودھ پلانا ضروری ہے۔ اس لئے اگر خواتین بریسٹ کینسر جیسی خطرناک بیماری سے بچنا چاہتی ہیں تو کوشش کیا کریں کہ اپنے بچے کو ڈبے کے دودھ کی جگہ اپنا دودھ پلایا کریں۔
قارئین! خواتین میں پائی جانے والی بریسٹ کینسر کی بیماری ایک ایسی خطرناک بیماری ہے جوکہ آپ کو موت کے بہت قریب لے جاتی ہے۔ اس لئے اس بیماری سے بچنے کے لئے خواتین کو کافی احتیاط کرنی چاہئیے۔ اگر آپ نے یہ آرٹیکل پڑھ لیا ہے تو اس آرٹیکل میں بتائی گئی باتوں پر فوکس ضرور کیجئیے گا۔