ذیابیطس کی خاموش علامات اور ان سے بچنے کی تدابیر
[[ ذیابیطس کی خاموش علامات اور ان سے بچنے کی تدابیر ]]
!!!!!!!اسلام علیکم
ناظرین !!!!! ذیابیطس دراصل ایک ایسی بیماری کا نام ہے جس کا لوگوں کو بہت دیر سے پتا چلتا ہے۔۔۔ زیادہ تر لوگوں کو اس بیماری کا تب پتا ہی چلتا ہے جب یہ بیماری ان کے کنٹرول سے باہر جا چکی ہوتی ہے۔۔۔ لیکن اگر آپ یہ آرٹیکل پڑھ رہے ہیں تو اس آرٹیکل میں آپ کو ذیابیطس جیسی بیماری کی خاموش نشانیوں کا بھی پتا چل جائے گا اور ساتھ ساتھ آپ اس بیماری سے بچنے کی تدابیر بھی بھی جان سکیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیابیطس کی خاموش نشانیاں ●
وزن کم ہو جانا ▪
بعض اوقات لوگوں کا وزن اچانک سے گرنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ لیکن وزن کے اچانک گرنے کی وجہ ذیابیطس جیسی بیماری کی خاموش علامت ہو سکتی ہے۔۔۔ اگر آپ کی صحت اچھی ہے اور اب اچانک سے آپ کے وزن میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے تو یہ ذیابیطس جیسی بیماری میں مبتلا ہونے کی ہی ایک علامت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو پیشاب زیادہ آنا ▪
ذیابیطس کی بیماری کی ایک خاموش نشانی رات کو پیشاب کا زیادہ آنا بھی بتائی جاتی ہے۔۔۔ کیونکہ جب ہمارے جسم میں شوگر کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو پھر یہ اسے پیشاب کے راستے سے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔ اور یہ سب عمل زیادہ تر رات کے وقت ہی پیش آتا ہے۔۔۔ اگر آپ کو بھی رات کے وقت پیشاب کے لئے بار بار اُٹھنا پڑتا ہے تو یہ ذیابیطس کی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیاس زیادہ لگنا اور نظر میں کمی آ جانا ▪
ذیابیطس جیسی بیماری کی ایک خاموش نشانی یہ بھی ہے کہ پیاس بہت زیادہ لگتی ہے۔۔۔ ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ہونے والا شخص معمول سے زیادہ پانی کا استعمال کرتا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ نظر اچانک سے کمزور ہونے لگ جاتی ہے۔۔۔ اور اچانک سے نظر میں دھندلا پن آنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ اگر آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے تو یہ ذیابیطس کی بیماری کی ایک خاموش علامت ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیابیطس بیماری سے بچنے کی تدابیر ●
وقفے وقفے سے خوراک کا استعمال ▪
ہر انسان کو اُس کے کام کاج کے حساب سے کیلریز کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ تو سب سے پہلے تو آپ نے یہ معلوم کرنا ہے کہ آپ کو کتنی کیلریز کی ضرورت ہے؟۔۔۔ عموماً ہم جب کھانا کھاتے ہیں تو پورا ختم کر کے ہی اُٹھتے ہیں۔۔۔ لیکن ذیابیطس کے مریض ایسا بلکل بھی نہ کریں بلکہ ان کو چاہئیے کہ وہ وقفے وقفے سے کھانا کھائیں۔۔۔ تھوڑا سا کھانا کھا کر چھوڑ دیں پھر کچھ دیر بعد دوبارہ کھا لیں۔۔۔ بس آپ نے وقفے وقفے سے خوراک کو کھانے کی کوشش کرنی ہے۔۔۔ کیونکہ وقفے وقفے سے کھانا کھانے سے شوگر بہت کم مقدار میں بڑھے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاربوہائڈریٹس کا کم استعمال کرنا ▪
ذیابیطس کے مریضوں کو چاہئیے کہ وہ ہمیشہ ایسی چیزوں کا استعمال کریں جن میں کاربوہائڈریٹس کم مقدار میں موجود ہو۔۔۔ اب کاربوہائڈریٹس بھی دو اقسام کے ہوتے ہیں ایک سمپل کاربوہائڈریٹس اور دوسرا کمپلیکس کاربوہائڈریٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سپمل کاربوہائڈریٹس▪
میں جوس ,, سوفٹ ڈرنکس ,, اور چینی سے بنی اشیاء شامل ہوتی ہیں۔۔۔ جیسے کہ کھیر ,, کسٹرڈ ,, آئسکریم ,, کیچپ ,, کولڈ ڈرنکس ,, اور گوڑ جیسی اشیاء شامل ہیں جن س آپ کو پرہیز کرنا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمپلیکس کاربوہائڈریٹس ▪
میں چاول ,, اناج اور سبزیاں وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ذیابیطس کے مریض ہمیشہ کوشش کریں کہ عام آٹے کی جگہ ہمیشہ گندم اور جو کا آٹا استعمال کریں۔۔۔ عام چاولوں کی جگہ براؤن رائس کا استعمال کریں۔۔۔ اس کے علاوہ صبح عام بریڈ کی جگہ براؤن بریڈ کا استعمال کریں۔۔۔ اس کے علاوہ ذیابیطس کے مریض میٹھی چائے کا ہرگز استعمال نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبزیوں کا استعمال کرنا ▪
ذیابیطس کے مریض زیادہ سے زیادہ ہری سبزیوں کا استعمال کیا کریں۔۔۔ جیسے کہ طوری ,, گوبی ,, بینگن ,, پیاز وغیرہ کا استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔ ہری سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔۔۔ اور دالوں کا بھی استعمال لازمی کریں۔۔۔ ہری سبزیاں آپ کے اندر خون کی کمی کو بھی کافی فائدہ پہنچاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھلوں کا استعمال ▪
ذیابیطس کے مریض کیلے ,, آم ,, انگور ,, اور تربوز وغیرہ کا استعمال ہر گز نہ کریں۔۔۔ بلکہ ایسے پھل استعمال کریں جن میں میٹھا نہ ہونے کے برابر ہو۔۔۔ جیسے کہ سیب ,, انار ,, آڑو ,, جامن ,, مالٹا ,, پپیتا اور انجیر وغیرہ کا ذیابیطس کے مریض مناسب مقدار میں استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوشت کا استعمال ▪
ذیابیطس کے مریض مچھلی کا استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔ اس کے علاوہ گوشت بھی کم مقدار میں استعمال کر سکتے ہیں۔۔۔ کوشش کریں ذیابیطس کے مریض ہمیشہ دیسی مُرغی کا ہی استعمال کریں۔۔۔ اس کے علاوہ ذیابیطس کے مریض سِری پائے کا استعمال ہرگز مت کریں کیونکہ یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے کافی نقصان دہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرائی ہوئی چیزوں کا استعمال ▪
ذیابیطس کے مریض زیادہ تلی ہوئی چیزوں اور فاسٹ فوڈز کا استعمال نہ کریں۔۔۔ جیسے کہ پکوڑے ,, سموسے ,, تکے ,, پراٹھے ,, برگر ,, اور پیزا وغیرہ کا استعمال ہرگز نہ کریں۔۔۔ کیونکہ یہ چیزیں بھی ذیابیطس کے مریض کے لئے بہت نقصان دہ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناظرین !!! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص ذیابیطس جیسی بیماری میں مبتلا ہو کر صرف میڈیسن کھانے اس بیماری کو کنٹرول کر لیں گے۔۔۔ بلکہ اس بیماری کو کنٹرول کرنے کے لئے آپ کو اپنی خوراک پر کافی توجہ دینی ہو گی۔۔۔ تب ہی آپ اس بیماری کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔۔۔ اگر آپ میں سے کوئی شخص ذیابیطس جیسی بیماری کا شکار ہے اور اُس نے ہمارا یہ آرٹیکل پورا پڑھ لیا ہے تو اس آرٹیکل میں کہی گئی باتوں پر فوکس ضرور کیجئیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
☆ اللہ حافظ ☆