ہر وقت سوچتے رہنے کی بیمای سے کیسے بچا جائے؟
ہر وقت سوچتے رہنے کی بیماری سے کیسے پیچھا چُھڑوایا جا سکتا ہے؟
ناظرین محترم! اس دنیا میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جنہیں ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتے رہنے کی بیماری ہے اور وہ اس بیماری سے اپنا پیچھا بھی چُھڑوانا چاہتے ہیں۔ وہ پیچھا تو چُڑوانا چاہتے ہیں لیکن اُنہیں سمجھ نہیں آتی کہ آخر کیسے اس بیماری سے اپنی جان چُڑوائی جائے؟ لیکن اگر آپ یہ آرٹیکل پڑھ رہے ہیں تو پھر یقیناً آپ ہر وقت سوچنے کی بیماری سے اپنا پیچھا چُڑوا ہی لیں گے۔
ناظرین! ایک بار کسی شخص نے ماہر نفسیات سے پوچھا کہ۔ مجھے ہر وقت سوچتے رہنے کی بیماری ہے۔
اپنی زندگی میں آنے والے دنوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں, جو میری زندگی کے دن گزر گئے اُن دنوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں, کوئی مجھ سے بات کرے تو اس بارے میں سوچنے لگ جاتا ہوں, اور اگر کوئی مجھ سے بات نہ کرے تو بھی سوچنے لگ جاتا ہوں, میں اتنی شدید سوچوں میں گُم ہو جاتا ہوں کہ۔ مجھے رات کو نیند بھی ٹھیک طریقے سے نہیں آتی, میں ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا ہی رہتا ہوں۔ اور اب میں اپنے آپ سے بھی تنگ آ چکا ہوں کیونکہ میرا دماغ میں سوچوں کا ایک بوجھ بن چکا ہے۔ میں اس بیماری سے ہر حال میں پیچھا چُڑوانا چاہتا ہوں آپ کوئی ایسا حل بتائیں کہ۔۔۔ میں اس سوچ کی بیماری سے بس اپنا پیچھا چُھڑا سکوں۔
تو ماہر نفسیات اس شخص کو کہنے لگے کہ دراصل ہمارے دماغ میں سوچیں تب پیدا ہوتی ہیں جب ہماری زندگی میں مسائل حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں اور اُن مسائل کو حل کرنا ہمارے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہر نفسیات نے اس شخص کو ان سوچوں سے اپنی جان چُھڑوانے کے لئے یہ بھی مشورہ دیا کہ آپ اپنے پورے دن میں سے ایک گھنٹہ صرف سوچنے کا مقرر کر لیں۔ یعنی کہ جب بھی آپ کے دماغ میں کوئی سوچ پیدا ہو جائے تو۔ آپ اُسی وقت ہی اپنے آپ کو یہ سمجھائیں کہ جو مینے ایک گھنٹہ مقرر کیا ہے صرف اُسی وقت ہی سب کچھ سوچوں گا۔ اور پھر جو وقت آپ نے سوچنے کا مقرر کیا ہے وہ وقت آ جائے تو۔ آپ اُس وقت وہ سب کچھ سوچ سکتے ہیں جو سوچیں آپ کے دماغ میں پورا دن آتی رہتی ہیں۔ اس سے یہ ہو گا کہ آپ کا دماغ پورا دن سوچنے کے بجائے صرف ایک گھنٹہ ہی سوچنے کا عادی ہو جائے گا۔ اور پھر آہستہ آہستہ آپ اس ایک گھنٹے کو آدھے گھنٹے میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ یعنی کہ جو کچھ سوچنے کا ایک گھنٹہ آپ نے مقرر کیا تھا آپ اُس وقت کو آہستہ آہستہ کم کرتے رہیں اور پھر یوں آپ آہستہ آہستہ اس سوچ کی بیماری سے اپنا پیچھا چُڑوا لیں گے۔ یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر کبھی کوئی عادت پڑھ جائے تو اُسے آہستہ آہستہ ہی ختم کیا جاتا ہے۔۔۔پھر چاہے وہ عادت اچھی ہو یا بُری۔
ناظرین! اس کے علاوہ ماہر نفسیات نے اس شخص کو مزید یہ بھی مشورہ دیا کہ آپ سارا دن جو کچھ بھی سوچتے رہتے ہیں وہ سب کچھ اپنے کسی قریبی رشتہ دار یا اپنے کسی قابلِ اعتبار یا اپنے کسی سب سے قریبی دوست کے ساتھ وہ سب کچھ شئیر بھی کر سکتے۔ اس سے آپ کے دماغ پر جو بھی سوچوں کا بوجھ ہو گا وہ کافی حد تک کم ہو جائے گا اور پھر ہوں آپ اپنے مائنڈ کو کافی حد تک ہلکا محسوس کرنے لگیں گے۔
ناظرین! یہاں آپ کے لئے یہ بات بھی کافی زیادہ معلومات سے بھرپور ہو گی کہ زیادہ تر لوگ تب بھی سوچ کی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں جب وہ اپنے آج کے حال کو چھوڑ کر گزرے ہوئے ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ اب ماضی کی یادیں اچھی ہوں یا بُری ان کو یاد کرنے سے انسان ہمیشہ سوچ کی بیماری میں مبتلا ہو ہی جاتا ہے۔ اور پھر یہی ماضی کی سوچیں انسان کے آج کا متسقبل بھی برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ اور اُسے ایک بیماری میں بھی مبتلا کر دیتی ہیں۔ اب جو شخص ماضی کی یادوں کو سوچنے کے عادی ہو چکے ہیں اور وہ اس سوچ کی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں اور اب وہ اپنے آپ کو اس سوچ کی بیماری سے پیچھا چُڑوانا چاہتے ہیں تو اس کا بھی سمپل سا حل ہے کہ دن میں کوئی بھی ایک وقت مقرر کریں اور اپنے آپ سے یہ وعدہ کریں کہ جو وقت مینے مقرر کیا ہے صرف اُسی وقت ہی ماضی کو سوچوں گا اس کے علاوہ پورے دن کبھی کسی ماضی کی بات کو یاد نہیں کروں۔ بس یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ عادت چاہے کوئی بھی ہو اُسے آہستہ آہستہ کر کے ہی ختم کیا جاتا ہے۔ اور آپ سوچنے کی عادت اور بیماری کو بھی آپ اسی طرح ہی ختم کر سکتے ہیں۔
ناظرین! اگر آپ میں سے بھی کوئی شخص ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتے رہنے کی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے تو آپ بھی ماہر نفسیات کے بتائے ہوئے ان مشوروں پر عمل کر کے ہر وقت سوچتے رہنے کی بیماری سے اپنا پیچھا چُھڑوا سکتے ہیں۔ بس آپ کو ان سب باتوں پر ٹھیک طریقے سے عمل کرنا ہو گا۔